مرکزی منہاج القرآن ریندی میں عظیم الشان شہدائے کربلا کانفرنس
مرکز منہاج القرآن ریندی میں عظیم الشان شہدائے کربلا کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ محفل کا آغاز تلاوت قرآنِ پاک سے کیا گیا جس کی سعادت خطیب مسجد ہذا صوفی عبیداللہ چشتی نے حاصل کی۔ حضرت امام حسین کی بارگاہ میں منقبت پیش کرنے والوں میں ملک نسیم اعوان، صوفی اشرف چشتی اور سجاد حسین قادری شامل تھے۔ جبکہ نقابت کی سعادت خالد محمود قادری نے حاصل کی۔ شاگردِ رشید حضور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری علامہ محمد اقبال فانی (ڈائریکٹر منہاج القرآن انٹرنیشنل فرینکفرٹ) جرمنی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ اہل بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی عمل اہل بیت کی محبت کے بغیر ممکن نہیں۔ حضور اکرم نے فرمایا جو میرے اہل بیت سے بغض رکھے گا قیامت کے دن اس بندے کو یہودی بنا کر اٹھایا جائے گا۔ ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر وہ پانچ ارکان کا پابند ہو تب بھی یہودی بنا کر اٹھایا جائے گا۔ فرمایا ہاں خدا کی قسم یہودی بنا کر اٹھایا جائے گا۔حضور اکرم نے فرمایا جو اہل بیت کی محبت میں مرے گا وہ مومن مرے گا۔ اور جب قبر میں جائے گا تو فرشتے اس سے حساب نہیں لیں گے اور صرف یہ بتائیں گے کہ یہ جنتی ہے کیوں کہ یہ اہل بیت کے غلام ہیں۔ اس کو قبر سے اٹھا کر جنت میں ایسے لے جایا جائے گا جیسے دلہن شوہر کے گھر میں جاتی ہے۔ حضوراکرم کی ذات سے ایمان ملتا ہے اور اہلِ بیت کی محبت سے ایمان کی حفاظت ہوتی ہے۔ اور ایمان پر مرنے کی گارنٹی اہل بیت سے محبت ہے۔ امام حسین کی فکر آج بھی زندہ ہے۔ جس کی فکر زندہ ہو وہ مرتا نہیں۔ امام حسین کی فکر قیامت تک زندہ رہے گی۔آقا اکرم نے فرمایا میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہے۔ حسن اور حسین میرے پھول ہیں جو میری خوشبو لینا چاہتا ہے وہ حسن اور حسین سے محبت کرے۔ علامہ صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا امام حسین کی شہادت ہم سے وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔ سب کچھ دین پر قربان کرنا ہی حسینیت ہے۔ حضرت امام عالی مقام نے اپنے پورے کنبے کو اپنے نانا کے دین کی سربلندی کیلئے قربان کردیا۔ منہاج القرآج آج کے دور میں حسینی کردار ادا کررہی ہے۔ حضور شیخ الاسلام اس علم کی علمبردار ہیں۔ ہم دین کی مٹتی قدروں کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔حضرت امام حسین نے کربلا میں فرمایا تھا کہ ہم بارگاہِ خداوندی میں صبرو استقامت ، حدودِ اسلام کی پاسداری کا امتحان دینے کربلا آئے ہیں۔ اس دور میں فلسفہءشہادت حسینی یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہمارے خداوندانِ مسجد و مکتب بے ضمیر ملاں پیدا کرنے کی بجائے رسمِ شبیری ادا کرنے والے سرفروش، صاحب کردار، اخوت، بھائی چارے، امن کی داعی، تفرقہ بازی کو ختم کرنے والے راہِ حق میں قربانی دینے والے سنتِ رسول حقیقی پر عمل کرنے والے مدبر پیدا کریں۔ واقعہ کربلا تاریخ اسلام میں یذیدیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ منافقت سے اپنے کفر کے نظام کو بیعت حسین سے استحکام دینے کا خواہش مند تھا حسین کے انکار اور اعلائے کلمة الحق نے اُسے بے بس کردیا۔ محفل میں مرکزی ایگزیکٹو منہاج القرآن یونان (ریندی) کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ وینس ٹی وی نے بھی پروگرام کی کوریج کی۔ احسان اللہ خان اور راجہ مجاہد جرال نے بھی خصوصی شرکت کی۔محفل کے ا ختتام پر ملک پاکستان ، امتِ مسلمہ اور شہدائے کربلا کیلئے دعا کی گئی۔ آخر میں لنگر حسینی تقسیم کیا گیا اور حسینی سبیل کا بھی اہتمام کیا گیا۔