JAZBAPOST GALLERY
-
ایتھنز(سکندرریاض چوہان۔۔۔نامہ نگار) روزانہ تین سوغیرقانونی پناہ گزین یونان داخل ہوتے ہیں اورسا بقہ سالوںکی نسبت ان کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہواہے جس سے سرحدی مقامات پرقائم پناہ گزین کیمپوں میں جگہ کم پڑگئی ہے یہ رپورٹ یورپین یونین کی سرحدی نگرانی کی ایجنسی فرونٹیکس نے ایتھنز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دی۔فرونٹیکس ایجنسی کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر جل آریاس فرنینڈس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یونان کوغیرقانونی پناہ گزینوں کی آمد سے سخت مشکلات درپیش ہیں اوراس کی بنیادی وجہ یونانی انفرسٹریکچرکی کمزوری ہے جوکہ ناکام ہوچکاہے۔انھوں نے کہاکہ ہرماہ دس ہزار کے قریب غیرقانونی پناہ گزین یونان داخل ہورہے ہیں جن کی روزانہ کی تعداد تین سوکے قریب ہے ۔انھوں نے زوردیاکہ یونان اورترکی کے مابین ری ایڈمیشن کامعاہدہ بھی ناقابل عمل حد تک ختم ہوچکاہے تاہم اس کوموثر بنا کر ہی پناہ گزینوں کی آمد کوکنٹرول کیاجاسکتاہے تاکہ پناہ گزینوں کوان کے ممالک ڈی پورٹ کیاجاسکے ۔انھوں نے کہاکہ یونان کی ترکی کی جانب خشکی کی سرحد پناہ گزینوں کی سب سے بڑی راہ گزر ہے جس کوغیرقانونی پناہ گزین باآسانی عبورکرکے یونانی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔انھوں نے کہاکہ یورپی سطح پراوریونان کوملکی سطح پراپنے ہمسائے ممالک سے روابط بڑھانے ہونگے تاکہ وہ اس مشکل پرقابوپاسکے۔انھوں نے ترکی کے ویزہ سسٹم کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ترکی کی لبرل ویزہ پالیسی نے غیرقانونی پناہ گزینوں کی یونان آمد کوراہ دکھائی ہے اوراستنبول سے لنک فلائٹس کی قیمتوں میں کمی بھی اس امر میں مثبت کرداراداکررہی ہے جس کی وجہ سے انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہ اس کونہایت آسان اورکم قیمت روٹ کے طورپر اپناتے ہیں۔انھوں نے زوردیاکہ یورپی یونین کوغیرقانونی پناہ گزینوں کی آمد سے نمٹنے کے لیے ترکی کے ساتھ با ت چیت کوفروغ دینا ہوگا۔
ایتھنز:روزانہ تین سوغیرقانونی پناہ گزین یونان داخل ہوتے ہیں ،رپورٹ یورپین یونین
|
|
|
